بیگو سرائے، 24 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اس بار لوک سبھا انتخابات میں بہار کی بیگو سرائے سیٹ پر دلچسپ مقابلہ ہونے والا ہے۔یہاں بی جے پی کے متنازع لیڈ رگری راج سنگھ کے مقابلے جے این یو طالب علم یونین کے سابق صدر کنہیا کمار میدان میں ہوں گے۔نوجوان لیڈر کنہیا کمار بھارتی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے ٹکٹ سے بیگو سرائے سیٹ سے لوک سبھا الیکشن لڑیں گے۔اس کا اعلان خود سی پی آئی لیڈر سرورم سدھاکر ریڈی نے کیا ہے۔
بہار کی اس ہاٹ سیٹ پر بی جے پی کے سامنے سخت چیلنج ہوگا کیونکہ یہ سیٹ سی پی آئی کا مضبوط گڑھ مانی جاتی ہے۔اسے ماسکو آف بہار بھی کہا جاتا ہے۔دوسری طرف گری راج سنگھ اپنی پرانی نشست نوادہ ہی لڑنے کے لئے مائل بتائے جا رہے تھے لیکن پارٹی نے بیگو سرائے میں سنگھ کی تصویر اور نسلی مساوات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان پر داؤ چلا ہے،ایسا اس لئے کہ کنہیا اور گری راج سنگھ دونوں ہی ایک ہی ذات (بھومیہار) سے آتے ہیں۔جہاں تک سیاسی پروفائل کا سوال ہے، اس معاملے میں دونوں ہی کافی مشہور ہیں۔وہیں سی پی آئی مہاگٹھ بندھن میں شامل تو نہیں ہے لیکن بحث ہے کہ بیگو سرائے سیٹ سے کنہیا کمار کو مہاگٹھ بندھن کی حمایت بھی مل سکتی ہے۔ ایسے میں گری راج کی مشکلیں اور بڑھ سکتی ہیں،ایسا اس لئے بھی کہ یہ سیٹ ان کے لئے نئی ہے۔
ادھر گری راج سنگھ بھی ان نوادہ سیٹ چھننے سے کافی ناراض ہیں،اب بھی اپنا انتخابی حلقے تبدیل کرنے کے لئے پارٹی صدر امت شاہ کے دربار میں دستک دے رہے ہیں۔نوادہ سیٹ سے ایل جے پی کے چندن کمار کو امیدوار بنایا گیا ہے۔فہرست آتے ہی گری راج نے بیان دیا کہ وہ ناراض ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لئے امت شاہ سے وقت مانگا ہے، لیکن فی الحال ان کی ملاقات نہیں ہو پائی ہے۔گری راج سنگھ نے کہاکہ میں نے اپنے پارلیمانی حلقہ کے لئے اتنا کام کیا لیکن پھر بھی مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔